ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سرسی میں ڈاکٹروں پر حملہ کا معاملہ؛ اننت کمار ہیگڈے کے خلاف کیس درج؛ آج 7جنوری کوڈاکٹروں کا احتجاج؛ ریاست گیر پیمانے پردواخانے بند

سرسی میں ڈاکٹروں پر حملہ کا معاملہ؛ اننت کمار ہیگڈے کے خلاف کیس درج؛ آج 7جنوری کوڈاکٹروں کا احتجاج؛ ریاست گیر پیمانے پردواخانے بند

Sat, 07 Jan 2017 00:28:15    S.O. News Service

سرسی 6/جنوری (ایس او نیوز)ٹی ایس ایس اسپتال کے ڈاکٹروں پر حملے کا معاملہ میڈیا میں گرما گرم بحث کا موضوع بن جانے اور ہر طرف سے اس کی مذمت کے بعد سرسی پولیس اسٹیشن میں ایم پی اننت کمار ہیگڈے کے خلاف پولیس نے اپنے طور پر(suo motto)کیس درج کرلیا ہے۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق ایم پی کے خلاف کرناٹکامیڈیکل کیئر پرسنل ایکٹ کی دفعہ 4، آئی پی سی کی دفعہ323,504,347 کے تحت کیس درج ہوا ہے۔یاد رہے کہ2/جنوری کو اپنی ماں کے علاج میں کوتاہی کا الزام لگاکر اننت کمارہیگڈے نے اسپتال کے ڈاکٹر  مدھو کیشور، ڈاکٹر بالا چندر اور اسپتال کے ایک اسٹاف راہول پر جارحانہ حملہ کیا تھا جس سے ان افراد کو زخم آئے تھے۔ دیر رات کو غنڈوں کی طرح ڈاکٹروں کو گھسیٹ کر لے جانے اور گردن دبوچ کر پیٹنے کا پورا منظر اسپتال کے سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہوا تھا اور یہی ویڈیوکلپ جو میڈیا میں وائرل ہوئی تھی، اب اننت کمار کے گلے کا کانٹا ثابت ہوسکتی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس مارپیٹ کے بعد جب ڈاکٹروں نے پولس تھانہ پہنچ کر شکایت درج کرنے کی کوشش کی تو مبینہ طورپر آننت کمارہیگڈے کے لوگ بھی پولس تھانہ پہنچ گئے اور ڈاکٹروں کے خلاف پولس سے شکایت کی کہ اسپتال کے ڈاکٹروں اور اسٹاف نے مل آننت کمار ہیگڈے پر حملہ کیا ہے، جس پر پولس نے دونوں کے درمیان مصالحت کرتے ہوئے کوئی بھی معاملہ درج نہیں کیا تھا، مگر بعد میں میڈیا میں سی سی ٹی وی فوٹیج وائرل ہونے کے بعد معاملہ صاف ہوگیا تھا کہ آننت کمار ہیگدے نے کس طرح ایک ڈاکٹرکو کھینچتے ہوئے باہر لارہا ہے اور اُس کی کس طرح پیٹائی کررہا ہے۔ اس واقعے کے بعد عوام میں اس کے خلاف شدید رد عمل پایا جارہا تھا۔ کچھ سماجی تنظیموں کی طرف سے پولیس کے اعلیٰ افسران کو میمورنڈ م بھی دئے گئے تھے جس میں پولیس سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ suo motto کیس درج کرتے ہوئے سخت قانونی اقدام کرے۔ حالانکہ ایڈیشنل ایس پی کی طرف سے اپنے طور پر کیس داخل کرنے سے معذوری ظاہر کرنے کی بات بھی سننے میں آئی تھی، مگر اب لگتا ہے کہ عوامی ردعمل کے چلتے پولیس نے بالآخرسرسی میں کیس درج کرلیا ہے۔

ڈاکٹروں کا احتجاجی بند:     اسی دوران کنڑا کے ایک معروف اخبار نے خبر دی ہے کہ  انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے کل سنیچر 7 جنوری کو ریاست گیر سطح پر ڈاکٹرس اپنے اپنے دواخانے بند رکھتے ہوئے واقعے کی سختی کے ساتھ مذمت کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق سرسی شاخ نے احتجاجی طور پر7 / جنوری کو دواخانے بند رکھنے کا اعلان کیا تھا انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کی ریاستی یونٹ نے بھی اس کی حمایت کرتے ہوئے سنیچر کو دواخانے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔  

کنڑا اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق آئی ایم اے کی سرسی شاخ کے صدر ڈاکٹر کیلاش پائی نے اپنی پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ اسپتال کے ڈاکٹروں اور اسٹاف پرایم پی آننت کمار ہیگڈے نے بلاوجہ حملہ کیا ہے۔یہ ایک غیر ضمانتی جرم ہے۔ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے تحفظ کے سلسلے میں موجود 2009 کے ایکٹ کے مطابق اس جرم کے لئے کم سے کم تین سال کی جیل اور پچاس ہزار روپے جرمانہ لاگو ہو سکتا ہے۔ ذمہ دارانہ مقام پر رہتے ہوئے ایم پی کا یہ رویہ  انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ ڈاکٹروں کے ساتھ اننت کمارہیگڈے کے برے سلوک سے متعلق تمام تفصیلات پر غور کرنے کے بعد ان کے خلاف انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کی طرف سے احتجاجی بند اور مظاہرے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لہٰذا ریاست کے جن مقامات پرانڈین میڈیکل اسوسی ایشن کی شاخ موجود ہے وہاں پر7جنوری کو احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے میمورنڈم پیش کیے جائیں گے۔


Share: